14 فروری 2026 - 16:53
حصۂ چہارم | امریکی انقلابیوں نے ثابت کیا ہے کہ "امریکہ بڑا شیطان کیوں ہے"، / اسرائیل 2028ع‍ میں ختم ہو جائے گا، ای مائیل جونز

دینیات کے امریکی محقق، مصنف، جریدہ "ثقافتی جنگیں" کے چیف ایڈیٹر ای۔ مائیکل جونز کہتے ہیں: امریکہ کی سابقہ جمہوریاؤں کی تاریخ گواہ ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکی کی موجودہ سلطنت ـ اپنے بنیادی بیانیے ـ یعنی اسرائیل کے وجود ـ کے ساتھ [مل کر] عنقریب اختتام پذیر ہوگی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "امریکہ زوال" کا تیسرا بین الاقوامی سیمینار اکتوبر کے مہینے میں، چھ آبان 1404 میں، "دنیا کا نیا دور" کے عنوان سے تہران میں منعقد ہؤا۔ جس میں اندرونی اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں اور تحقیقاتی مراکز نے شرکت کی اور اندرونی اور غیر ملکی محققین، پروفیسروں نے خطاب کیا اور امریکہ کے سابق سفارت خانے میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بھی کئی فعال کارکنوں اور ماہرین نے بھی اس سیمینار کی ایک نشست میں تقاریر کیں۔

دینیات کے امریکی محقق، مصنف، جریدہ "ثقافتی جنگیں" کے چیف ایڈیٹر ای۔ مائیکل جونز (E. Michael Jones) نے اس سیمینار کے مقرر کے طور پرکہا:

۔۔۔ تھامس پین نے بھی سنہ 1776ع‍ میں اپنے رسالے "عقل سلیم" (Common-Sense) ـ جو اس نے نوآبادیوں کو برطانیہ کے خلاف مشتعل کرنے کے لئے لکھا ـ میں ملٹن کے شیطان کا حوالہ دیتا ہے۔ وہ نوآبادیوں کے اکسانے کے لئے لکھتا ہے: "امن و آشتی اس وقت ایک مغالطہ آمیز خواب ہے، فطرت [اور صحتمندی] [انگلستان اور اس کی نوآبادیوں کے باہمی] رابطے سے رخت سفر باندھ کر چلی گئی ہے، اور فن اور سفارتکاری اس کی جگہ نہیں لے سکتی۔ کیونکہ جیسا کہ ملٹن عقلمندانہ [انداز سے] کہتا ہے: "حقیقی امن ایسے مقام پر نہیں پنپ سکتا جہاں ہلاکت خیز نفرت کے زخم اس قدر گہرے ہوگئے ہوں۔"  پین اپنے امریکی سامعین و قارئین کو ٹھیس نہ پہنچانے کی غرض سے شیطان کے باقیمانہ خطاب کو نقل نہیں کرتا لیکن یہ تقریر آخر کار، بغاوت کی شیطانی منطق کو اس کے ناگزیر نتیجے تک پہنچا دیتی ہے:

تو، وداع اے امید، اور امید کے ساتھ، وداع اے وحشت اے گھبراہٹ

وداع اے ندامت و پشیمانی! تمام تر اچھائیاں میرے لئے ضائع ہو چکی ہیں؛

اے شر! تو میری خوبی بن: کم از کم تیرے ذریعے

میں جنت کے بادشاہ کے ساتھ مشترکہ بادشاہی کا مالک ہوں

تیرے ذریعے، شاید نصف کائنات پر حکومت کروں گا

جیسا کہ انسان [آدم] اور یہ نئی دنیا [زمین] بہت جلد جان لے گی

مورخہ 10 جنوری 1776ع‍ کو تھامس پین (Thomas Paine) نے اپنا رسالہ "عقل سلیم" شا‏ئع کرکے، امریکی انقلاب پر حکمفرما روح کے عنوان سے شیطان کا دامن تھام لیا۔ یہ رسالہ وسیع پیمانے پر بک گیا، تقسیم ہؤا اور پھر مے خانوں اور اجتماعی مقاومات پر اونچی آواز میں پڑھ کر سنایا گیا یہاں تک کہ "ایک فوری کامیابی" میں تبدیل ہؤا۔ اگر ہم اس رسالے کی تقسیم کو "اس زمانے کی نوآبادیوں کی آبادی کے تناسب سے" مدنظر رکھیں تو عقل سلیم امریکی تاریخ کی دوسری کتابوں کی مقابلے میں بہت زیادہ وسیع سطح پر شائع ہوئی۔ "عقل سلیم" کی اشاعت کے سات ماہ بعد، شیطان کا خطاب امریکہ کی آزادی کے اعلامیے کی صورت اختیار کر گیا۔ اگرچہ اس اعلامیے پر دستخط کرنے والے افراد اس کالونیت (Calvinism یا اصلاح شدہ پروٹسٹنٹزم) کے خلاف بغاوت کر چکے تھے، جو ملٹن کی تصنیف کا محرک سمجھا جاتا تھا، لیکن ان ہی افراد نے شیطان کے خطاب کو، اس انداز سے، اپنے اعلامیے یا بیان میں سمو دیا:

"جب ظلم و غصب کا ایک طویل سلسلہ، سب ایک ہی مقصد کے حصول کے لئے، مطلق استبدادیت کے ہاتھوں اسیر عوام کو کم کرنے کے لئے، ایک سازش کا مظاہرہ کر رہا ہے، ان کا یہ حق اور یہ فرض ہے، کہ اس طرح کی حکومت کو برطرف کر دیں، اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لئے نئے محافظین فراہم کر دیں۔"

جس لمحے ملٹن کے ہم مسلکوں نے خلیج ماساچوست (Massachusetts) کے ساحل پر قدم رکھا، اسی وقت سے امریکہ وہی چیز بننے پر مجبور ہؤا جس کا نام [انیسویں صدی میں] آیت اللہ خمینی نے "شیطان بزرگ" رکھا: بڑا شیطان۔ نتیجہ یہ کہ ان پیورٹنز کے بیٹے، اس روح کے بہترین مفسرین تھے۔ جیسا کہ یہ روح انیسویں صدی کے دوران وحدت پسندی (Unitarianism) اور بعدازاں ارتداد (Apostasy) میں تبدیل ہو گئی۔

امریکی فلسفی اور مصنف رالف والڈو ایمرسن (Ralph Waldo Emerson) نے یقینا گمشدہ جنت کو پڑھ لیا تھا۔ اس کا مشہورترین مقالہ "خود اعتمادی" (Self-Reliance) ہے، جس میں وہ [انسان میں] اسی شیطانی روح اور شیطانی دھن کی گونج پہنچاتا ہے۔ ایمرسن نے ملٹن سے سیکھ لیا تھا کہ ذہن بذات خود ایک مقام (جگہ) ہے، اور اپنے اندر "جہنم کو جنت بنا سکتا ہے، اور جنت کو جہنم۔" چنانچہ وہ اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ "کوئی بھی چیز حتمی طور پر مقدس نہیں ہے، سوائے تیرے اپنے ذہن کی صحت و صداقت کے۔"

جب ایک نسل نے ـ جو کتاب مقدس سے ایک بالکل مختلف ادراک اور تصور کے ساتھ پروان چڑھی تھی، ـ ایمرسن کی مخالفت کی اور کہا: "لیکن یہ جبلتیں [اور وسوسے] ممکن ہے کہ نیچے سے [اور نفس اور شیطان کی طرف سے] ہو، نہ کہ اوپر سے [اور خدا کی طرف سے"، ایمرسن نے بالآخر شیطان کا دامن پکڑا، اور جواب دیا: "میرا خیال نہیں ہے کہ ایسا ہو، لیکن بہرحال اگر میں شیطان کا بیٹا ہوں، تو شیطانی [انداز سے] جیوں گا۔"

ایمرسن نے "شیطان کا بیٹا" کا نظریہ کالونیت (Calvinism) کے اصول "مکمل بدکرداری" (Total Depravity) سے اخذ کیا ہے۔ اگرچہ وہ بظاہر اس اصول کو مسترد کرتا ہے، اما پروٹسٹنٹ ازم کی انقلابی روح کے شیطانی تفریر کے لب لباب کو محفوظ رکھتا ہے، جو درحقیقت شیطان پرستی ہی ہے۔ ایمرسن کا پڑوسی [امریکی ناول نگار اور مصنف] ناتانئل ہاواتھرون (Nathaniel Hawthorne) بھی اسی کالوینسٹ میراث کا نقیب بنا اور ایمرسن کی طرح، اس کو مسترد کیا لیکن ایمرسن کی سادہ لوحانہ خوش فہمی کو قبول نہ کرسکا؛ اور تاریکی کے جنگل میں مُقَیَّد رہا، جس کو اس نے کتاب "ینگ گوڈمین براؤن" (Young Goodman Brown) میں بیان کیا ہے۔ براؤن اپنی بیوی "فیتھ" (Faith) (ایمان) کو ترک کر دیتا ہے تاکہ شیطان سے ملاقات کر سکے۔ شیطان کی بے چینی دیکھ کر، ینگ گوڈمین براؤن صرف ایک بات کہہ سکا: "فیتھ [ایمان] نے مجھے پیچھے [اور روکے] رکھا، لیکن اب میں "آپ کی نسل کی آغوش میں" آیا ہوں۔" اور نسل سے مراد یہی عقیدہ ہے کہ "بنی نوع انسان کی فطرت شرّ ہے۔" ینگ گوڈمین براؤن جب "گوڈی کلوئز (Goody Cloyse) کو دیکھتا ہے تو کہتا ہے: "وہ بری عورت وہی تھی جس سے میں نے دینی تعلیمات حاصل کی ہیں۔"

ایمان (Faith) نے کچھ عرصے تک جمہوریہ امریکہ کو روکے رکھا، لیکن دوسری عالمی جنگ کے بعد، امریکی سلطنت (Empire) کا ظہور، شیطان پرستی کی طرف ایک لمبی چھلانگ تھا۔ شیطان کی طرح، ـ جس طرح کہ اس تاریک چہرے نے جنگ میں ینگ گوڈمین براؤن کا استقبال کیا ـ پیورٹن پادری بھی وضاحت کرتا ہے کہ صرف شرّ  [برائی] کو ہی تمہاری واحد خوشی ہونا چاہئے۔" امریکہ اس معنی میں ـ جس کو ئیل یونیورسٹی (Yale University) کے  پروفیسر ڈیویڈ گلرنٹر (Professor David Gelernter) نے "دنیا کا چوتھا بڑا مذہب" قرار دیتا ہے ـ درحقیقت کئی صدیوں سے جاری معاہدہ تھا جو شیطان کے ساتھ منعقد ہؤا تھا۔ امریکہ اپنے غیرتحریری قانون (شیطان پرستی) سے کہیں بڑھ کر ہے۔ امریکہ کی شناخت و تشخص بدستور ان افراد کی شناخت کی بنیاد پر قائم ہے، جو بہتر زندگی کی امید لے کر اس سرزمین میں آئے ہیں۔ یہ کہ دو بھائی کس طرح مل کر ایک نئی چیز بناتے ہیں، میری تازہ ترین کتاب کا موضوع ہے: "چہل قدمی ایک انجیل اور ایک اسلحے کے ساتھ: امریکی شناخت کا ظہور، زوال اور امریکی تشخص کی واپسی (Walking with a Bible and a Gun: The Rise, Fall and Return of American Identity)۔"

چونکہ امریکہ میں قومیت تین مرکزی دھارے کے مذاہب یعنی پروٹسٹنٹ ازم، کیتھولزم اور یہودیت ہیں، پروٹسٹنٹ ازم کا غائب ہونا، چوتھی جمہوریہ کے آغاز کی جنگ کو تیز تر کر دے گا۔ یہ جنگ کیھولک عیسائیوں اور یہودیوں کے درمیان اس بات پر ہوگی کہ کیا ایک بین الاقوامی اخلاقی قانون موجود ہے یا نہیں؟ یہ جنگ سنجیدگی کے ساتھ [اور وسیع پیمانے پر] اس وقت شروع ہوئی جب اسرائیلی فوج نے "کلیسای خانواده مقدس" کیتھولک  چرچ پر بمباری کی اور اس وقت یہ اختتام پذیر ہوگی جب اسرائیل سنہ 2028ع‍ میں عالمی نقشے سے غائب ہوگا۔ / اختتام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha